Saturday, 5 January 2013

Pakistan


پاکستان کا مطلب کیا ۔۔۔۔ ؟؟

یہ میرا پاکستان ہے' اس کی چھاتی پر رواں دواں دریا' اس کی آغوش سے پھوٹتی رحمتوں کے سلسلے' اس کے آنگن میں رقص کرتی ندیاں' اس کے پہاڑوں میں اچھلتے کودتے چشمے' اس کے میدانوں میں شاداں و فرہاں پری رو درخت' زیبا بدن سبزے' نورنگ پھول' پھیلتی سمٹتی روشنیاں' رشک مرجاں شبنمی قطرے' لہلہاتی فصلیں' مسکراتے چمن' جہاں تاب بہاریں اور گل پرور موسم اس کی عظمت کے گیت گا رہے ہیں۔ اس کے پنجابوں پر جھکے جھکے آفاق' اس کی سرحدوںِپر پھیلی پھیلی فضائیں' اس کے بام و تخت کے بوسہ لیتے آسمان اس کے حسن تقدیر کے نقوش بن کر ابھر رہے ہیں۔ یہ میرا ملک بھی ہے' یہ میری تقدیر بھی ہے۔یہ میری داستان بھی ہے' یہ میرا ارماں بھی ہے۔ یہ میری مچلتی آرزو بھی ہے' یہ میری آرزوؤں کا آستاں بھی ہے' میرے خون کے قطروں میں لکھت میں وہ عزم و حوصلہ نہیںجو اس کے آبی قطروں میں ہے۔ میرے دیدہ وچشم کی جھیلوں میں وہ جمال نہیں جو رومان و حسن اس کے جوہڑوں اور تالابوں میں ہے۔ میرے وجود کی مٹی میں وہ دلکشی نہیں جو جاذب نظر اور دلفریبی اس کی خاک میں ہے۔ یہ پھولوں کی دھرتی ہے۔ یہ خوشبوؤں کا مسکن ہے۔ یہ نظاروں کا دیس ہے۔ یہ رحمتوں کی جولانگاہ ہے۔ یہ روشنیوں کا کشور ہے۔ یہ اجالوں کا مصدر ہے۔ اس پر نثار میرے دل وجاں۔ اس پر تصدق میری جز ہائے بدن۔ یہ محض میرا ملک نہیں میرا ایماں بھی ہے' میری جاں بھی ہے' اس کے دکھ مجھے دکھ دیتے ہیں' اس کے سینے سے اٹھنے والے مسائل کے ہوکے میرے دل میں چھبنے والی سوئیاں ثابت ہوتے ہیں۔ اس کی طرف کوئی ٹیڑھی نظر سے دیکھے تو گویا وہ آنکھ نہیں' میرے جسم میں پیوست ہونے والا تیر ہوتا ہے۔

یہ نظریئے' یہ احساس' یہ سوچیں' یہ افکاریہ' یہ درد' یہ آرزوئیں' یہ ولولے اور یہ تمنائیں کسی ایک شخص کے نہیں' ہر پاکستانی کی ہیں اور پاکستانی ہونے کے ناطے ہم سب اپنے ملک کی محبت اور عقیدت میں گرفتار ہیں۔ لیکن یہ بھی سوچتے ہیں کہ ہمارے ملک کی سرکیں' ہمارے وطن کی شاہراہیں' ہمارے دیس کی وادیاں' ہمارے کشور ناز کے صحرا' ہمارے پنجاب کے میدان' ہمارے سرحد کے پربت' ہمارے بلوچستان کے ٹیلے' ہمارے سندھ کے ریگزار قتل گاہیں کیوں بن گئیں۔ یہاں نفرتوںکے کانٹے کس نے بوئے؟ یہاں بارود کے دھوؤں میں ہم وطنوں کا خون کس نے بکھیرا۔ الفت و محبت کے نغموں کو بے سازوبے آوازکس نے کیا؟ ناقص اور غلط افکار کے آوارہ اور بے نسل ہاتھیوں کو دشت وطن میں دوڑنے کا موقع کس نے فراہم کیاکہ گلی گلی حسد وبغض کی خاک اڑنے لگی۔ تہذیب و تمدن کی بساط پر حیا سوزی کی آگ کون روشن کرگیا کہ ملت عریانیت اور فحاشی کی ناز بے کراں میں جلنے لگی۔ جدھر دیکھتے ہیں جسے دیکھتے ہیں' حالات کی ظلمتیں جیسے مقدر کے ساتھ کھیل رہی ہوں۔۔۔۔۔۔!!!

ہم خونیں بدن لئے' ہم مجروح جسم لئے' ہم گھائل دل لئے' ہم امستے افکار لئے 'ہم بے حال وجود لئے اور ہم فگار قلب و جگر لئے منزل ڈھونڈنے' سہارا تلاش کرنے' وسیلہ پکڑنے علماء کے درودولت پر حاضری دیتے ہیں۔ علماء کرام! بچالو ہمیں۔ ہم دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں مشائخ عظام کا'

مشائخ عظام! بچالو ہمیں۔ بچالو ہمارے ملک کو! ہماری ملت کو' ہم سنتے ہیں تمہارے پاس دین ہے۔ کہاں ہے تمہارا دین؟ بچاؤ بچاؤ کہ ہم جل رہے ہیں۔ ہم ڈوب رہے ہیں۔ ہمارا ملک بھنور میں پھنسا ہوا ہے۔ اسے نفرتوں کی چڑیلیں چمٹ گئی ہیں۔ اسے عصبیتوں کے سانپ کانٹ رہے ہیں۔ اسے علاقہ پرستیوں کے بچھو ڈس رہے ہیں۔ خدارا! مدد کرو۔ تم کب تک حسین بحثوں اور دلکش مناظروں کے سوداگر بنے رہوگے؟ اپنے علم کو زحمت آفرین مت بناؤ۔ رحمت پرور بناؤ' لفظ بازی کے میدان سے نکل کر قوم کی امامت کرو' دیکھو ساری قوم تمہارے دروازے پر کھڑی ہے' لگتا ایسے ہے کہ یہ چشمہ فیض بھی کبھی جاری تھا لیکن اب خشک ہوچکا ہے۔ محسوس ایسے ہوتا ہے کہ یہ دریائے رحمت کبھی انسانیت کو سیراب کرتا تھا۔ اب اس کے سوتے بے فیض ہوچکے ہیں۔ سمجھ یہ آتی ہے کہ یہ رسی کبھی خدا تک پہنچانے کا سلیقہ رکھتی تھی۔ لیکن اب اس کا اپنا ناتا عرش سے کٹ چکا ہے۔ رسم اذاں ہے روح بلالی رضی اﷲ عنہ نہیں۔ وجود نماز ہے قلب علی رضی ﷲ عنہ نہیں۔ ادائے زکواۃ ہے حکمت عثمانی رضی اﷲ عنہ نہیں۔ مناسک دین ہے فراست بوذر رضی اﷲ عنہ نہیں۔ شیریں مقالی ہے عشق حسان رضی اﷲ عنہ نہیں۔ اہتمام تدریس ہے تلقین غزالی رضی اﷲ عنہ نہیں۔۔۔۔۔۔!!!

علمائے کرام ۔۔۔ مشائخ عظام!

تمہارے وجود میں دین مبین کا آب صافی کبھی گدلا نہ ہوتا' تمہارے فیض کا دریائے نور کبھی خشک نہ ہوتا' اگر تم میں ایسے لوگ نہ پیدا ہوجاتے جو خالق پر مخلوق کو ترجیح دیتے ہیں اور ان کی بوالہوسیاں فیضی وابوالفضل کو بھی شرمسار کردیتی ہیں۔ ہم اہل اسلام' اہل وطن اگر خود تار تار وجود نہ رکھتے ہوتے اور ہماری اپنی شرم سوزیاں اور حیاء سازیاں اگر حد انتہا تک نہ پہنچ چکی ہوتیں تو ہم تمہیں کبھی معاف نہ کرتے لیکن تم اور ہم سب ایک بگڑی ہوئی قوم کا حصہ ہیں۔ اس لئے آؤ شاید ہمارے سیاستدان اور حکمران ہمیں سنبھالا دیں لیکن یہاں بھی دکھتا یہ ہے کہ ہمارا وزن زیادہ ہے اور ہماری سیاست کے ناخداؤں کے سفینے تنگ ظرف ہیں۔ ان کے کمزور اور ناتواں ہاتھ زندگی کی ناؤ کھینچنے میں شاید کامیاب نہیں ہوسکے۔ انہیں فرصت ہی نہیں دولت سازیوں سے' انہیں موقع ہی نہیں دے رہیں' ان کی ہوس افزونیاں' انہیں سوچنے ہی نہیں دیتیں' دنیا پرستیاں' وہ شرمسار لذت کام و دھن میں' وہ سرگرداں ہیں' مستی عیش و عشرت میں' وہ مبتلا ہیں فریب حکم و حکمت میں' وہ محو ہیں قوم کی سادہ سازی اور سادہ گری میں۔ ان کے جسم پاکستانی ہیں اور روحیں پردیسی ہیں۔ ان کے بدن پاکستانی ہیں ان کے ضمیر بدیسی ہیں۔ بقول شخصے۔

اس کے بھی مقدر میں وہی در بدری ہے
 برباد میری طرح نسیم سحری ہے 
میری روح کے مطاف میرے وطن 
میرے دل کے مدار میرے دیس 
میری آنکھ کے منظر شوق میرے وطن 
میری چشم کے منظر جمالی میری دیس


آج تیری قسمت لکھنے والے قلم تلواریں بن گئے۔ آج تیری حفاظت کرنے والے تلواریں کھجور کی خشک شدہ ٹہنیاں ہوگئیں۔ آج تیری ترقی کے لئے سوچنے والے دماغ خشک گوشت کی سڑی ہوئی بوٹیاں بن گئے۔ آج تیری عظمت کے ترانے الاپنے والے شاعر محبوبوں کی زلف ہائے بے سود میں الجھی ہوئی جوئیں ہوگئے۔ آج تیری عظمت کے گیت گانے والوں کے گلوں میں مفاد کی ہڈیاں پھنس گئیں۔

''میرے وطن پاکستان''

تیری گودمیں پھر وہ نوجوان حسن کی بہاریں کب بکھیریں گچن کا مقدر' جن کا نعرہ' جن کا شوق اور جن کی لگن بس یہی ہوگی۔

پاکستان کا مطلب کیا ۔۔۔۔ لاالہ اﷲ اﷲ محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم

میرے وطن! تیرے سرپر دست شفقت رکھنے والے بوڑھے پیر بزرگ کب نشہ مرگ سے باہر آئیں گے کہ تجھے بصیرت اور تدبر کا نور ملے گا۔

''میرے دیس'' تیری چھاتی پر کرکٹ کے بلوں اور ہاکی کی گیندوں سے کھیلنے والوں کو کب فرصت ملے گی کہ وہ کیل و کانٹوں سے لیس ہوکر تیری حفاظت کے لئے بیڑہ اٹھائیں گے۔

''میرے کشور ناز'' میری روح' میرے جگر' تیری تاریخ ماں بیٹیوں کا جنون حسن آرائی اور نشہ شرم سوزی کب دم مرگ دم لے گا کہ وہ تجھے حوصلوں اور پاکیزہ جذبوں کی آغوش میں لے کر پائندہ و زندہ رہنے کی لوری سنائیں گے۔

''میرے وطن'' تو میری زبان ہوجا۔ میرے وطن تو میری آہ بن جا۔ میرے وطن تو عظیم جذبوں میں ڈھل کر بول' آواز دے' ہنگامہ کھڑا کری۔ آج وقت ہے شور مچا اپنوں کو بلا' اپنی برادری کو اکھٹا کر اور صدا لگا۔

اپنی ہی قلفیاں سمجھ کر مجھے لوٹنے والو' میں نہ رہا تو تمہاری عیاشیاں بھی نہ رہیں گی۔ میں نہ رہا تو تمہاری سیاستوں کا بھی مندہ پڑ جائے گا۔ میں نہ رہا تو تمہارے فلک بوس محل بھی گل مردہ کی طرح بے رونق ہوجائیں گے۔ میں نہ رہا تو تمہارے ارمانوں اور آرزوؤں کے سہاگ اجڑ جائیں گے۔ تمہاری شاہ شیریوں کی براتیں لٹ جائیں گی۔ تمہارے سروں کے عمامے گرہ در گرہ بکھر جائیں گے اور تمہاری عزت کی عبائیں اور قبائیں تار تار ہوجائیں گی۔

میرے پھول وطن ۔۔۔۔۔۔ میرے خوشبو دیس 
آتو بھی بول آ میں بھی بولوں
 تو بی دعا کر آ میں بھی پکاروں
 نور شریعت دے دے مولا 
شبنم عظمت دے دے مولا
در رفعت عطا کر مولا

استحکام کی شہدیں نہریں ہوں اور شہد کے دریا بہہ جائیں' زہر کے ساگر ٹوٹ پڑیں اور بغض کے بادل چھٹ جائیں۔ چپہ چپہ رحمت مولا' قدم قدم نور ورنگ' لحظہ لحظہ نظر کرم' لمحہ لمحہ نظر کرم' گام گام اجالے اگیں اور بستی بستی روشنی برسے۔

صدقہ میرے داتا رحمتہ اﷲ علیہ کا
واسطہ میرے غوث رحمتہ اﷲ علیہ کا تجھ کو
مجھے حفظ میں لے مجھے امن سے رکھ!

میری باغوں کے گلدانوں کا' میرے صحرا کے آتش دانوں کا' میرے ذروں اور ستاروں کا' میری بہاروں اور گلزاروں کا' میرے جوبن مست پہاڑوں کا' میری قاری خو آبشاروں کا' میرے سپنوں اور میرے خوابوں کا' میرے آبی موروں اور مرغابیوں کا' میرا کون ہے تیرے سوا مولا!!

ڈاکو لوٹیں عالم سوئیں حاکم سوئیں عالم لوٹیں
حاکم لوٹیں شہری سوئیں اور شہری لوٹیں سب لٹیرے
 میں بے چارہ میں بے بس میں مظلوم میں مقہور

پاکستان زندہ باد ۔۔۔۔۔۔ پاکستان پائندہ باد



قـــــد افـلــــح مــــن ذکــــھـــا
وقــــد خـــاب مــــن دســــھــا
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...